صفحات

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

مشہور روایت یا سارية الجبل اور غیر  مقلد ین کے مستند علماء کی تصدیق
کشف کی ایک مثال حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا ہوا درج ذیل واقعہ ہے ، چنانچہ ایک بار وہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھےکہ لوگوں نے سنا : آپ کہہ رہے ہیں ، "یا ساریۃ الجبل" اے ساریہ پہاڑ میں پناہ لو ، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، اور جب آپ سے اسکی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : میرے سامنے ایسا ظاہر ہوا کہ ساریہ بن زنیم جو آپ کے ایک کما نڈر تھے ۔ دشمنوں کے نرغہ میں ہیں اور انکا رخ پہاڑ کی طرف ہے تو میں نے کہا اے ساریہ پہاڑ پہاڑ ، ساریہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، پہاڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسکی پناہ میں پہنچ گئے ۔ یہ ایک کشف تھا کیونکہ ایسا واقعہ کہیں بہت دور پیش آیا تھا، جسکا انکشاف حضرت عمر پر ہوگیا

امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ، امام سیوطی نے جامع الاحادیث میں ، امام علی المتقی الہندی نے کنزل العمال میں ، اور امام ابن حجر عسقلانی نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ‘ اس روایت کوحافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الإصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے؛ کنز العمال کا متن ملاحظہ کریں ؛
عن ابن عمر قال: وجه عمر جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب يوما جعل ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، ثم قدم رسول الجيش فسأله عمر، فقال: يا أمير المؤمنين! لقينا عدونا فهزمنا، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله، فقيل لعمر: إنك كنت تصيح بذلك. "ابن الأعرابي في كرامات الأولياء والديرعاقولي في فوائده وأبو عبد الرحمن السلمي في الأربعين وأبو نعيم عق معا في الدلائل واللالكائي في السنة، كر، قال الحافظ ابن حجر في الإصابة: إسناده حسن".
ترجمہ :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو روانہ فرمایا: اور حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو اُس لشکر کا سپہ سالار بنایا ، ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے درمیان یہ نداء دی کہ یا ساریۃ الجبل ، ائے ساریہ پہاڑ کے دامن میں ہوجاؤ ۔ یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا ۔ جب لشکر کی جانب سے قاصد آیاتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہاں کا حال دریافت کیا ؟ اُس نے کہا : ائے امیر المؤمنین ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا تو وہ ہمیں شکست دے ہی چکے تھے کہ اچانک ہم نے ایک آواز سنی ، ائے ساریہ پہاڑ کے دامن میں ہوجاؤ ۔ پس ہم نے اپنی پیٹھ پہاڑ کی جانب کرلی تو اللہ تعالی نے دشمنوں کو شکست دے دی ۔ عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی عرض کیا گیا کہ بیشک وہ آواز دینے والے آپ ہی تھے ۔
(دلائل النبوة للبيهقي،حديث نمبر:2655)
(جامع الأحاديث للسيوطي،حرف الياء ،فسم الافعال،مسند عمر بن الخطاب، حديث نمبر:28657)
(كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال لعلي المتقي الهندي،حرف الفاء ، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، حديث نمبر:35788)
(الإصابة في معرفة الصحابة،لابن حجر العسقلاني،القسم الأول ،السين بعدها الألف)
اس روایت کوحافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب الإصابة في معرفة الصحابة میں ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے ۔



فتاوى اللجنة الدائمة
تصفح برقم المجلد > المجموعة الأولى > المجلد السادس والعشرون (كتاب الجامع 3) > السيرة > قول عمر رضي الله عنه يا سارية الجبل
الفتوى رقم ( 17021 )س: جاء محاضر إلى مدرستنا، وكانت المحاضرة عن كرامات الأولياء والصالحين ، وقال في محاضرته: كان عمر بن الخطاب يخطب على المنبر، فنادى السارية التي أرسلها للحرب، فقال: (يا سارية الجبل) فسمعت السارية كلامه فانزاحت إلى الجبل. علمًا بأن
(الجزء رقم : 26، الصفحة رقم: 41)
بينهما مسافة بعيدة، هل هذه الرواية صحيحة أم خطأ، وهل هي من الكرامات؟
ج : هذا الأثر صحيح عن عمر رضي الله عنه، ولفظه: أن عمر رضي الله عنه، بعث سرية فاستعمل عليهم رجلاً يدعى سارية ، قال: فبينا عمر يخطب الناس يومًا قال: فجعل يصيح وهو على المنبر: يا سارية الجبل، يا سارية الجبل، قال فقدم رسول الجيش، فسأله فقال: يا أمير المؤمنين لقينا عدونا فهزمنا، فإذا بصائح يصيح: يا سارية الجبل، فأسندنا ظهورنا بالجبل فهزمهم الله.
رواه أحمد في (فضائل الصحابة)،
وأبو نعيم في (دلائل النبوة)
والضياء في (المنتقى من مسموعاته)
وابن عساكر في (تاريخه)
والبيهقي في (دلائل النبوة)
وابن حجر في (الإصابة) وحسن إسناده،
ومن قبله ابن كـثير في (تاريخه) قال: إسناد جيد حسن، والهيثمي في (الصواعق المحرقـة) حسن إسناده أيضًا.

وهذا إلهام من الله سبحانه، وكرامة لعمر رضي الله عنه، وهـو المحدث الملهم، كما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم، وليس في الأثر أنه رضي الله عنه كشف له عن الجيش وأنه رآه رأي العيـن إلى غير ذلك من الروايات الضعيفة التي يتعلق بها غلاة المتصوفة في الكشف، واطلاع المخلوقين على الغيب، وهذا باطل؛ لأن الاطلاع على الغيب من صفات الله سبحانه وتعالى، وما ذكر في السؤال أعلاه مـن أن عمر
(الجزء رقم : 26، الصفحة رقم: 42)
رضي الله عنه نادى السارية التي أرسلها للحرب فسمعت السـارية كلامه فانزاحت للجبل، فهذا جهل في معنى الحديث.وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
عضوعضوعضوعضوالرئيس
بكر أبو زيد
عبد العزيز آل الشيخ
صالح الفوزان
عبد الله بن غديان
عبد العزيز بن عبد الله بن باز




شیخ صالح العثمین ؒصاحب سے پوچھا گیا کہ یا ساریة الجبل کے واقعہ سے کیا اسباق ثابت ہوتے ہیں؟؟ تو انہوں نےجو جواب دیا اس کا مفہوم ہے کہ ''اس سے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رض کی کرامت ثابت ہوتی ہےاور پھر اخیر میں فرمایا کہکرامات اولیاء کا ثبوت بھی اس سے معلوم ہوتا ہے
(آگے کرامت کی تعریف کی ہے)
کہ کرامت ہر اس امر کو کہا جاتا ہے جو خارق للعادة ہو اللہ ج اسے اپنے اولیاء میں سے کسی ولی کے ہاتھ پر جاری فرماتے ہیں اس ولی کی تکریم کی خاطر اور اس راستے کی تصحیح کی خاطر جس پر وہ ولی چلتا ہے اسی وجہ سے ہر ولی کی کرامت ایک نشانی ہے اور معجزہ ہے اس رسول ص کا جسکی اتباع وہ ولی کرتا ہے
(اور پھر تھوڑا سا آگے فرمارہے ہیں)
کہ کرامت کبھی تو ولی پر آئی ہوئی شدت و بلا سے اس ولی کو چھٹکارا دینے کے لئے ہوتی ہے اور کبھی اللہ ج کے دین کے اس امر کے اعزاز کے لئے ہوتی ہے جسکی طرف وہ ولی دعوت دیتا ہے۔(فتاوی نور علی الدرب،جلد 12،صفحہ 268،267)

دوسرا سوال کہ یہ جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ عمر بن خطاب رض نے جبکہ وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے ساریہ رض کو دیکھا اور وہ دشمن کے مقابلے میں جنگ کے میدان میں تھے تو عمر رض نے فرمایا یا ساریة الجبل کیا یہ قصہ واقعی میں رونما ہوا ہے یا ایسے ہی ایک خیال ہے بس شریعت اس متعلق کیا کہتی ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ قصہ مشھور ہے عمر بن خطاب رض سے متعلق
(اور پھر تھوڑا سا آگے فرمارہے ہیں)
کہ اس جیسے واقعات کا شمار کرامات اولیاء میں ہوتا ہے اور اللہ ج اسے اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری فرماتے ہیں انکے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی مدد کے لئے اور ایسی کرامت گذشتہ امتوں میں بھی موجود ہے اور اس امت میں بھی اور قیامت کے دن تک ہمیشہ رہیگی اور کرامت ایک ایسی شئ ہے جو خارق للعادة ہو اللہ ج اسے ظاھر فرماتے ہیں ولی کے ہاتھ پر اس کے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی تائیید کے لئے۔


کہ اس جیسے واقعات کا شمار کرامات اولیاء میں ہوتا ہے اور اللہ ج اسے اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری فرماتے ہیں انکے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی مدد کے لئے اور ایسی کرامت گذشتہ امتوں میں بھی موجود ہے اور اس امت میں بھی اور قیامت کے دن تک ہمیشہ رہیگی اور کرامت ایک ایسی شئ ہے جو خارق للعادة ہو اللہ ج اسے ظاھر فرماتے ہیں ولی کے ہاتھ پر اس کے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی تائیید کے لئے۔

یہ حدیث صحیح ہے یا حسن ہےامام بیہقیؒ نے دلائل النبوۃ(2/181) میں نقل کیا ہے۔جیسے کہ مشکٰوۃ(2/546)رقم:59054 باب الکرامات میں ہے،امام ابن کثیرؒ نے البدایہ والنہایہ:7/131 میں،ابن عساکرؒ نے (7/6۔1)،(13/23۔2)میں،الضیاءؒ نےالمنتقی من مسموعاۃ بمرو(ص:28۔29)میں ابن الاثیرنے اسد الغایہ (5/68) میں ذکر کیا ہے۔
اورالسلسلۃالصحیحہ(3/101)(رقم1110) میں نافع سے مروی ہے کہ یقیناً عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے کہا"یا ساریۃالجبل،یاساریۃالجبل"اے ساریہ رضی اللہ عنہ پہاڑ کو لازم پکڑ!اے ساریہ پہاڑ کو لازم پکڑ! تو اس وقت جمعہ کے دن ساریہ رضی اللہ عنہ پہاڑ کی طرف حملہ کر رہے تھے۔اور اس کے اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مہینے کی مسافت تھی۔
جو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں،اس حدیث کی متعدد سندیں ہیں اور یہ خطبہ جمعہ دوران تھی نیند نہیں تھی۔رہا وہ کشف جو صوفیاء خیال کرتے ہیں تو وہ باطل ہےاور یہ کرامت تھی اور یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے انہیں الھام ہوا تھا،آپ کےمنہ سے سمجھ کے بغیر صادر ہو گیا تھا۔تفصیل کے لیے مراجعہ کریں،السلسلہ۔فتاویٰ الدین الخالص، امین پشاوری (ج1ص212)



محمد بن عجلان صدوق راوی ہے ، نافع سے اس کی روایت میں تدلیس کا خدشہ بھی ہو تو انہوں نے صراحت کردی ہے کہ یہ روایت انہوں نے ایاس بن معاویہ بن قرۃ ( جو کہ ثقہ راوی ہیں ) سے بھی سماعت کی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں لالکائی کی شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (7/ 1409)
2537 - أنا الْحَسَنُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ، قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: نا أَبُو عَمْرٍو الْحَارِثُ بْنُ [ص:1410] مِسْكِينٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: أنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ "، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ جَيْشًا أَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ. قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمًا، قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَ الْجَبَلَ» . قَالَ: فَقَدِمَ رَسُولُ الْجَيْشِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقِينَا عَدُوَّنَا فَهَزَمْنَاهُمْ، فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: «يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَ الْجَبَلَ» ، فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا بِالْجَبَلِ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ ". فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «إِنَّكَ كُنْتَ تَصِيحُ بِذَلِكَ» قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَحَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ بِذَلِكَ
لہذا جن اہل علم نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے ، ان کی بات درست محسوس ہوتی ہے ، علامہ زرکشی فرماتے ہیں :
وَقد افرد الْحَافِظ قطب الدّين عبد الْكَرِيم الْحلَبِي لهَذَا الحَدِيث جُزْءا ووثق رجال هَذِه الطَّرِيق ۔حافظ قطب الدین حلبی مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے ، جس میں اس واقعہ کے سارے طرق جمع کیے ہیں ، اور اس طریق کے تمام رجال کو ثقہ قرار دیا ہے ۔(التذكرة في الأحاديث المشتهرة = اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة (ص:166)۔علامہ سیوطی فرماتے ہیں ''وألف القطب الحلبي في صحته جزءاً۔قطب الحلبی نے مستقل رسالے میں اس کی صحت کو ثابت کیا ہے ۔(الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة (ص: 211)

البانی رحمہ اللہ نے (تحقيق الآيات البينات في عدم سماع الأموات (ص: 112) میں اس کی سند کو ’’ جید حسن ‘‘ کہا ہے ، جبکہ سلسلہ صحیحہ میں اس پر طویل گفتگو کی ہے ، اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ واقعہ صرف ابن عجلان کی سند سے صحیح ہے ، لہذا دیگر اسانید میں جو اضافے ہیں ، اور جن سے اہل بدعت لوگ اپنے بدعی نظریات کے ثبوت کی دلیل لیتے ہیں ، بالکل درست نہیں

بن کثیر نے اس کی سند کو جید کہا اور مختلف طریق بیان کرنے کے بعد کہا کہ یہ طریق ایکدوسرے کو قوت دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن عجلان کے طرق کو علامہ البانی نے حسن کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ ابن حجر نے الاصابہ میں سن کو حسن کہا۔۔
ابن ھیثمی نے صواعق المحرقہ مین حسن کہا۔
ابن باز، صالح الفوزان، عبدالعزیز الشیخ نے فتاوی اللجنہ دائمہ میں اس کو صحیح قرار دیا۔۔
صالح العثیمن نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اور فتاوی نور علی الدرب میں اس واقعہ کو کشف و کرامات کے طور پر تسلیم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امین پشاوری نے فتاوی دین الخالص میں اس کو صحیح قرار دیا اورکہا کہ جو اس کو ضعیف کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔


عن ابنِ عمرَ قال وجَّهَ عمرُ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يُدعى ساريةَ فبينا عمرُ يخطبُ جعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ فقال يا أميرَ المؤمنين هُزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتًا يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندنا ظهْرَنا إلى الجبلِ فهزمَهُمُ اللهُ تعالَى قال قيل لعمرَ إنك كنتَ تصيحُ بذلك ـ(الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر العسقلاني) - الصفحة أو الرقم: 2/3 (الجزء 3 - الصفحة 5،)كشف الخفاء (العجلوني) - الصفحة أو الرقم: 2/515) المصدر: البداية والنهاية (ابن كثير) - الصفحة أو الرقم: 7/135)السلسلة الصحيحة (الألباني) - الصفحة أو الرقم: (3/101) 1110،)خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن۔كرامات أولياء الله عز وجل للالكائي (سنة الوفاة:418) » ذكر فضائل الصحابة وغيرهم » سياق مَا روي من كرامات أمير المؤمنين أَبِي حفص عُمَر ... رقم الحديث: 49)
علامہ ابن قیم رح اس کو "کشف" میں شمار کرتے لکھتے ہیں:
والكشف الرحماني من هذا النوع: هو مثل كشف أبي بكر لما قال لعائشة رضي الله عنهما: إن امرأته حامل بأنثى. وكشف عمر- رضي الله عنه- لما قال: يا سارية الجبل، وأضعاف هذا من كشف أولياء الرحمن .[مدارج السالکین ( 3 / 228)]
اور کشف رحمانی یہ ہے ، جس طرح کہ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہا کہ ان کی بیوی کو بچی حمل ہے ، اور اسی طرح عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا کشف جب کہ انہیوں نے یا ساریـۃ الجبل کہا تھا یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف دھیان دو ، تو یہ اللہ رحمن کے اولیاء کے کشف میں سے ہے۔
علامہ ابن قیمؒ اس واقعے کو بطور کشف رحمانی پیش کر رہے ہیں۔۔


عن ابنِ عمرَ قال وجَّهَ عمرُ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يُدعى ساريةَ فبينا عمرُ يخطبُ جعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ فقال يا أميرَ المؤمنين هُزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتًا يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندنا ظهْرَنا إلى الجبلِ فهزمَهُمُ اللهُ تعالَى قال قيل لعمرَ إنك كنتَ تصيحُ بذلك ـ(الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر العسقلاني) - الصفحة أو الرقم: 2/3 (الجزء 3 - الصفحة 5،)كشف الخفاء (العجلوني) - الصفحة أو الرقم: 2/515) المصدر: البداية والنهاية (ابن كثير) - الصفحة أو الرقم: 7/135)السلسلة الصحيحة (الألباني) - الصفحة أو الرقم: (3/101) 1110،)خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن۔كرامات أولياء الله عز وجل للالكائي (سنة الوفاة:418) » ذكر فضائل الصحابة وغيرهم » سياق مَا روي من كرامات أمير المؤمنين أَبِي حفص عُمَر ... رقم الحديث: 49)
امام احمد بن حنبلؒ نے اس کو فضائل صحابہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ذکر کیا ہے۔۔ محقق نے اس کی سند کو حسن کہا اور کہا کہ علامہ ھیثمی نے اس کی سند کو صواعق المحرقہ میں حسن کہا اور علامہ ابن تیمیہؒ نے الفرقان میں اس روایت سے استدلال کیا ہے۔۔


ابن تیمیہؒ نےفتاوی ابن تیمیہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساریہ والے واقعے کواور دوسرے کئی واقعات کو بطور کشف تسلیم کیا اور لکھا
وأما المعجزات التي لغير الأنبياء من باب الكشف والعلم فمثل قول عمر في قصة سارية، وأخبار أبي بكر بأن ببطن زوجته أنثى، وأخبار عمر بمن يخرج من ولده فيكون عادلاً. وقصة صاحب موسى في علمه بحال الغلام، والقدرة مثل قصة الذي عنده علم من الكتاب. وقصة أهل الكهف، وقصة مريم، وقصة خالد بن الوليد وسفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي مسلم الخولاني، وأشياء يطول شرحها. فإن تعداد هذا مثل المطر. وإنما الغرض التمثيل بالشيء الذي سمعه أكثر الناس. وأما القدرة التي لم تتعلق بفعله فمثل نصر الله لمن ينصره وإهلاكه لمن يشتمه.
اور جہاں تک معجزات غیر انبیاء کے علم و کشف کے باب میں ہے تو اس کی مثال ساریہ کا عمر والا قصہ ہے — ان قصوں کی تعداد اس قدر ہے جیسے بارش(فتاوی ابن تیمیہ،11/318)
اپنی دوسری کتابوں النبوات، قاعدة عظيمة في الفرق بين عبادات أهل الإسلام والإيمان وعبادات أهل الشرك والنفاق، الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية میں ابن تیمیہ نے اس کا کئی بار اس قصہ کا ذکر کشف کی دلیل کے طور پر کیا




تو اتنے علماء نے اس واقعہ کو صحیح تسلیم کیا اور بطور کشف و کرامات اس سے دلیل پکڑی۔
بالفرض اگر یہ روایت ضعیف بھی ہے تب بھی بطور کشف و کرامات اس واقعہ سے دلیل لی جا سکتی ہے۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
محسن اقبال

جماع پر غسل واجب نہ ہونا، غیر مقلدین کےایک اعتراض کا جواب


غیر مقلدین کا فقہ حنفی پر ایک اعتراض کا ہے کہ نابالغ لڑکی سے جماع پرغسل واجب نہیں جب تک انزال نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احناف کا فتوی بھی یہی ہے کہ جماع سے غسل واجب ہو جاتا ہے بھلے انزال ہو یا نہ ہو جیسا کہ ہدایہ میں موجود ہے۔


لیکن غیر مقلدین کو شاید یہ معلوم نہیں کہ ان کے مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ کے نزدیک بھی بغیر نزول منی غسل واجب نہیں اور امام بخاریؒ نے یہ مسئلہ مختلف احادیث میں تطبیق دینے کے بعد کہا۔۔(اہلحدیث امرتسر،17 جون 1938)
امام اہلحدیث نواب وحید الزماں لکھتے ہیں کہ امام بخاری کے نزدیک عاقل مرد عورت جماع کریں ،انزال نہ ہوتو غسل واجب نہیں۔( نزل الابرارج1ص23،24)
اس کے علاوہ غیر مقلدین کے عمران ایوب لاہوری صاحب امام شوکانی کی کتاب الدر البہیہ کے ترجمہ و تحقیق میں لکھتے ہیں کہ
''جمہور کے موقف کے خلاف حضرت ابو سعید خدری، زید بن خالد، سعد بن ابی وقاص، حضرت معاذ، حضرت رافع بن خدیج، حضرت علی رضی اللہ عنہم، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اور ظاہریہ کا موقف یہ ہے کہ غسل صرف انزال کی صورت میں ہی واجب ہوتا ہے اور ان کا مؤقف حدیث کی بناء پر ہے لیکن جمہور کا مذہب راجح ہے''( فقہ الحدیث،1/236،235)
تو غیر مقلدین کو چائیے کہ امام بخاریؒ ، اور ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر وہی فتوی لگائیں جو وہ احناف پر لگاتے ہیں۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال

فقہ حنفی میں کتے کے جھوٹے برتن کو تین بار دھونا اور غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب


غیر مقلد اکثر اعتراض کرتے ہیں کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب کتابرتن میں منہ ڈال دے تو اس کو پاک کرنے کے لئے سات مرتبہ دھویا جائے ۔ لیکن احناف کے نزدیک برتن کو ۳ بار دھونا ہی کافی ہے۔ بولئے یہ حدیث کی مخالفت ہے یا نہیں ؟ اس کے لئے غیر مقلدین نے ھدایہ کا سکین دیا لیکن اپنی عادت کے مطابق ادھوری بات نقل کی۔ ہدایہ میں اس عبارت کے بعد واضح لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق برتن کو تین مرتبہ دھویا جائے گا۔ ہدایہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کیا جا رہا ہے جس کو غیر مقلدین نے نقل نہیں کیا اور ادھوری عبارت نقل کر کے احناف پہ حدیث کی مخالفت کا الزام لگایا۔

کتے کے جھوٹے برتن کو دھونے سے متعلق احادیث مختلف آئی ہیں ۔ بخاری و مسلم کی بعض احادیث میں ساتھ مرتبہ دھونے کا حکم ہے اور مٹی سے مانجھنے کا حکم نہیں۔ 
مسلم شریف کی ایک حدیث میں ساتھ بار دھونے کا حکم ہے اور پہلی بار مٹی سے مانجھنے کا حکم بھی۔

صحیح مسلم۔ جلد:۱/پہلا پارہ/ حدیث نمبر:649/ حدیث مرفوع
۔ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللہِ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْکِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي کَلْبِ الصَّيْدِ وَکَلْبِ الْغَنَمِ وَقَالَ إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ فِي التُّرَابِ ۔

649۔ عبید اللہ بن معاذ، شعبہ، ابوتیاح، مطرف بن عبد اللہ، ابن مغفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا پھر فرمایا ان لوگوں کو کیا ضرورت ہے اور کیا حال ہے کتوں کا، پھر شکاری کتے اور بکریوں کی نگرانی کے لئے کتے کی اجازت دے دی اور فرمایا جب کتابرتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ اس کو مانجھو۔
ابوداؤد حدیث نمبر ۷۳ اور دارقطنی حدیث نمبر ۱۸۳ میں سات بار دھونے کا حکم ہے اور ساتویں بار مٹی سے مانجھنے کا حکم بھی۔ سات بار دھونے اور پہلی یا آخری بار مٹی سے مانجھنے سے متعلق احادیث کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے مسلم شریف میں میں آٹھ بار دھونے اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھنے کا حکم بھی ہے۔
پھر حضرت ابوہریرہ کا اپنا موقف بھی یہ تھا کہ تین بار دھویا جائے ۔ جیسا کہ حافظ الحدیث ابن عدی نے الکامل ، میں حضرت ابوہریرہ سے یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈال دے تو اس میں جو کچھ ہے گرادو اور برتن کو ۳ بار دھوؤ ۔ 

أَخْرَجَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي ” الْكَامِلِ ” عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْكَرَابِيسِيِّ ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُهْرِقْهُ وَلْيَغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ '' اگر کتا برتن میں منہ ڈال دے تو تین بار دھونا چائیے'' (دارقطنی حدیث نمبر ۱۹۳، ۱۹۴)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِى الإِنَاءِ فَأَهْرِقْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ.
مصنف عبدالرزاق جلد ۲ صفحہ ۹۷ میں حضرت عطا بن یسار کا فتویٰ موجود ہے، انہوں نے بھی 3، 5 یا 7 مرتبہ دھونے کی اجازت دی ہے۔
عبد الرزاق عن ابن جريج قال : قلت لعطاء : كم يغسل الاناء الذي يلغ فيه الكلب ؟ قال : كل ذلك سمعت ، سبعا ، وخمسا ، وثلاث مرات.
معمر رح جو کہ صحیح مسلم کی سات مرتبہ دھونے کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ''میں نے امام زہری سے کتے کے جھوٹے برتن کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ 3 مرتبہ دھویا جائے'' ( مصنف عبدالرزاق، جلد1 صفحہ 97)
عبد الرزاق عن معمر قال : سألت الزهري عن الكلب يلغ في الاناء قال : يغسل ثلاث مرات

اگر ۳ مرتبہ دھونے کی حدیث موجود نہ ہوتی اور سات بار دھونے کی حدیث ہوتی تو اعتراض کسی حد تک درست ہوتا کہ تین بار دھونے کی بات حدیث سے ٹکراتی ہے۔جب ۳ بار دھونے کی حدیث بھی موجود ہے بلکہ حضرت ابوہریرہ صجس سے سات باردھونے کی حدیث مروی ہے خود انہیں سے تین بار دھونے کی حدیث بھی مروی ہے بلکہ خود انہیں کا فتویٰ تین بار دھونے کاہے تو پتہ چلا کہ ساتھ بار دھونے کا حکم اس وقت تھا جب کہ حضور اکرم ﷺ نے شروع شروع میں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ بعد میں جب شکاری اور حفاظت کے کتے رکھنے کی اجازت دی تو کتے کے لئے جھوٹے برتن کو دھونے کے مسئلے میں تین بار دھونے کا حکم دے کہ حکم میں آسانی پیدافرمادی۔ ورنہ حضرت ابوہریرہ جیسے صحابی رسول سے یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ حضور کی حدیث میں سات بار دھونے کا حکم ہو اور وہ ازخود تین بار دھونے کو کافی سمجھیں۔
اگرصرف سات مرتبہ دھونا واجب ہو تو حضرت عبداللہ ابن مغفل کی روایت کا کیا جواب ہوگا جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا لوگوں کو کتوں سے کیا لینا دینا ہے ؟ پھر بعد میں آپ نے شکاری اور حفاظتی کتے رکھنے کی اجازت د ے دی اور فرمایا : جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو ساتھ بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو(صحیح مسلم)
اب مسلم کی اس روایت سے تو آٹھ مرتبہ کا حکم بھی آ گیا تو آپ کس پہ عمل کریں گے؟
(بشکریہ ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

اس کے علاوہ امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ ساتھ امام مالکؒ کا فتوی بھی تین مرتبہ دھونے کا ہی ہے جس کا اعتراف فتاوی علمائے حدیث میں موجود ہے۔(فتاوی علمائے حدیث،1/25)
جیسا کہ فتاوی علمائے حدیث کے حوالہ سے ثابت ہوا کہ امام مالکؒ کا فتوی بھی تین بار دھونے کا ہے تو غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ وہ امام مالکؒ کے خلاف بھی حدیث کی مخالفت کا فتوی لگائیں؟ تو ثابت ہوا کہ احناف کا یہ مسئلہ بھی حدیث سے ثابت ہے اور غیر مقلدین کا احناف کو اس مسئلہ میں حدیث کا مخالف کہنا غلط ہے۔ �� 
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال

فقہ حنفی میں تیمم کا طریقہ اور غیر مقلدین کے دھوکے کا جواب


غیر مقلدین نے اعتراض کیا ہے کہ فقہ حنفی میں تیمم کے لئے 2 ضربیں ہیں جو کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہیں۔ یہ غیر مقلدین کا فقہ حنفی پر غلط الزام ہے کیونکہ فقہ حنفی کا مسئلہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ثابت ہے۔

احناف کی دلیل حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس سے ثابت ہے کہ ایک ضرب چہرہ کے لئے اور دوسری ضرب ہاتھوں کے لئے ہے، (ابن ماجہ،حدیث نمبر 571، ابوداؤد، حدیث نمبر 318) اس روایت کو غیر مقلدین کے مستند محدث علامہ البانی نے صحیح ابو داؤد میں نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے اور زبیر علی زئی مرحوم نے سنن ابن ماجہ اور ابو داؤد کی تحقیق و تخریج میں صحیح قرار دیا ہے۔
غیر مقلدین کے ہی عالم محمد قاسم امین صاحب سنن ابن ماجہ کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ ''امام ابو حنیفہؒ،امام مالکؒ امام شافعیؒ ،لیث بن سعدؒ اور جمہور کا مسلک یہ ہے کہ تیمم کے لئے 2 ضربیں ہوں گی،ایک چہرے کے لئے اور دوسری ہاتھوں کے لئے''(سنن ابن ماجہ،صفحہ 205)
تو ثابت ہوا کہ احناف کا مسئلہ صحیح حدیث سے ثابت ہے جس کو زبیر زئی اور علامہ البانیؒ صحیح قرار دے رہے ہیں اور بقول مولانا قاسم امین تیمم کی 2 ضربوں کا مسئلہ صرف احناف کا نہیں بلکہ امام مالکؒ، شافعیؒ ،لیث بن سعدؒ اور جمہور کا ہے ۔ 
اس کے علاوہ غیر مقلدین کے مشہور محدث عبداللہ روپڑی تیمم کے طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ''تیمم کا طریق یہ ہے کہ دونوں ہاتھ زمین پر مارے ورنہ کسی اور چیز پر مارے ۔ جس پر مٹی یا گرد و غبار ہو۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں مل کر پھونکے تاکہ ہتھیلیوں پر زیادہ گرد و غبار نہ رہے۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو منہ پر پھر ہاتھوں پر گٹوں تک ملے یہ تیمم کی اصل صورت ہے ۔ اور اگر ایک دفعہ ہاتھ زمین پر مارکر منہ مل لے اور دوسری دفعہ مارکر ہاتھوں پر کہنیوں تک مل لے تو یہ بھی جائز ہے۔''(فتاوی اہلحدیث،1/287)
 تو غیر مقلد محدث نے بھی تیمم کی 2 ضربوں کو جائز کہا جو کہ احناف کا موقف ہے۔ 
غیر مقلدین کے عمران ایوب لاہوری نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ تیمم میں 2 ضربوں کا مسئلہ ابن عمر رضی اللہ، حضرت جابر رضی اللہ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ،سفیان ثوریؒ،امام ابراہیمؒ اور امام حسن بصریؒ کا بھی یہی مسئلہ ہے۔(فقہ الحدیث،جلد 1 صفحہ 265،266)
تو غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اور احناف کے ساتھ ساتھ امام مالک ؒ، امام شافعیؒ، امام سفیان ثوریؒ، حسن بصریؒ ابن عمر رضی اللہ پہ بھی اس مسئلہ پہ حدیث کی مخالفت کا فتوی لگائیں۔
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال

بدھ، 26 اکتوبر، 2016

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تنقیصِ شان پر مبنی اقوال نقل کرنے کا حکم




امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تنقیصِ شان پر مبنی اقوال نقل کرنے کا حکم
فضیلۃ الشیخ صالح بن عبد العزیز آل شیخ

سوال:آپ کی عبد اللہ بن امام احمدرحمہ اللہ کی کتاب میں وارد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں خلق قرآن کے (کفریہ) عقیدے پر وفات پانے کی جو تہمت ہے اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب
یہ ایک اچھا سوال ہے،اور واقعی یہ عبداللہ بن امام احمدرحمہ اللہ کی کتاب‘‘کتاب السنہ’’میں موجود ہے۔بات یہ ہے کہ عبداللہ بن امام احمدرحمہ اللہ کے دور میں فتنہ خلق قرآن بہت بڑھ چکا تھا،اور لوگ اکثر ان چیزوں سے استدلال کرتے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منسوب تھیں،حالانکہ درحقیقت آپ ان سے بری تھے۔
اس کے علاوہ بھی اور چیزیں تھیں جیسے معتزلہ تاویلِ صفات کےبارے میں آپ ہی سے ایسی باتیں نقل کیا کرتے تھے،جن سے درحقیقت آپ بری تھے۔انہی میں سے بعض باتیں عوام میں اتنی زبان زد عام ہوگئی کہ یہی باتیں علماء کرام کے سامنے پیش ہوئیں اور انہوں نے لوگوں کے ظاہر قول پر ہی حکم فرما دیا۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا باقاعدہ مذہب اور مکتبہ فکر بننے سے پہلے کی بات ہے۔چونکہ وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی وفات سےقریب کا ہی زمانہ تھا اور اقوال نقل کرنے والےامام سفیان ثوری،سفیان بنی عیینہ،وکیع اور فلاں فلاں جیسے بڑے علماء اکرام سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اقوال نقل کرتے۔لہٰذا اس زمانے میں حاجت اس بات کی متقاضی تھی کہ امام عبداللہ بن احمدرحمہ اللہ اپنے اجتہاد سے امام صاحب کے بارے میں علماء اکرام کے اقوال نقل فرمائیں،لیکن اس زمانے کے بعد جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ اسے مزید روایت نہ کیا جائے،اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اب ہمیشہ صرف ذکر خیر ہی کیا جائے۔

یہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے زمانے کے بھی بعد کی بات ہے،کیونکہ جس طرح امام احمدرحمہ اللہ کے دور میں بھی کبھی کبھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کلام کیا گیا اسی طرح امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے دور میں تھا،جس کی وجہ سے آپ نے اپنی مشہور و معروف تاریخ میں ایسی روایات نقل فرمائی ہیں(جن میں امام ابو حنیفہ پر کلام ہے)جن پر اس کے بعد بھی رد ہوتا رہا یہاں تک کے چھٹی اور ساتویں ہجری میں منہجِ سلف کو استقرار حاصل ہوا(یعنی مکمل اصولوں پر کتابیں مدون ہوئیں وغیرہ)،اور اسی سلسلے میں شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنا مشہور و معروف رسالہ‘‘رفع الملام عن الائمۃ الاعلام’’(مشہور آئمہ کرام پر کی جانے والی ملامتوں کا زالہ) تصنیف فرمایا،اسی طرح اپنی باقی تمام کتابوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر تمام آئمہ کا ذکر خیر ہی فرمایا۔ان کے اورتمام آئمہ کے ساتھ رحمدلانہ سلوک فرمایا اورسوائے ایک بات کے اور کوئی تہمت آپ کی جانب منسوب نہیں فرمائی اور وہ یہ ارجاء کا قول وہ بھی ارجاء الفقہاء(نہ کہ غالیوں کی الارجاء

اس کے سوا ان تمام تہمات کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا اسے نقل نہیں فرمایا،کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب بنام‘‘فقہ الاکبر’’اوردوسرے رسائل موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بالجملہ سلف صالحین کے ہی عقیدے و منہج کے تابع تھے سوائے اس مسئلے ارجاء یعنی ایمان کے نام میں عمل کو داخل نہ سمجھنا کے۔
چنانچہ اسی نہج پر علماء کرام گامزن رہے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا سوائے(جیسا کہ میں نے بیان کیا)جانبین(یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں غلو کرنے والوں اوردوسری جانب ان کی شان میں تنقیص کرنے والوں)کی طرف سے کچھ باتیں ہوتی رہیں،ایک جانب وہ اہل نظر جو اہلحدیثوں کو حشویہ اور جاہل پکارتے تھے اور دوسری جانب ان کی طرف سے بھی جو اہلحدیث اور اثر کی جانب منسوب تھے انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر کلام کیا یا پھر حنفیہ پر بطور ایک فقہی مکتبہ فکر یا ان کے علماء پر کلام کیا۔جبکہ اعتدال و دسط پر مبنی نقطہ نظر وہ ہے جو امام طحاوی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا اور اسی پر آئمہ سنت قائم تھے
پھر جب امام شیخ محمدبن عبد الوہاب رحمہ اللہ تشریف لائےاسی منہج کو لوگوں میں مزید پختہ فرمایا چنانچہ انہوں نے کسی امام کا ذکر نہیں فرمایا مگر خیر و بھلائی کے ساتھ اور یہ منہج بیان فرمایا کہ تمام آئمہ کرام کے اقوال کو دیکھا جائے اور جو دلیل کے موافق ہو اسے لے لیا جائے،کسی عالم کی غلطی یا لغزش میں اس کی پیروی نہ کی جائے،بلکہ ہم اس طرح کہیں کہ یہ ایک عالم کا کلام ہے اور اس کا اجتہاد ہے لیکن جو دوسرا قول ہے وہ راجح ہے
۔
اسی لئے بکثرت مکاتب فکر میں:‘‘یہ قول راجح ہے اور یہ مرجوع ہے’’ کی باتیں عام ہو گئی اور اسی منہج پر علماء کرام تربیت پاتے رہے یہاں تک کہ ملک عبد العزیز کے دور کی ابتداء میں جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے کتاب السنۃ عبداللہ بن امام احمدرحمہ اللہ
شائع کرنے کا ارادہ فرمایا۔
اس وقت اس کی طباعت کی نگرانی اور مراجع پر شیخ علامہ عبداللہ بن حسن آل شیخرحمہ اللہ مامورتھے جو اس وقت مکہ مکرمہ کے رئیس القضاۃ(چیف جسٹس)تھے۔پس آپ نے پوری فصل ہی طباعت سے نکلوا دی(جس میں امام ابو حنیفہ پر کلام تھا)،اسے شرعی حکمت کے تحت شائع نہیں کیا گیا کیونکہ اس قسم کی باتوں کا اپنا وقت تھا جو گزر چکا۔

اس کے علاوہ یہی اجتہاد اور لوگوں کی مصالح کی رعایت کرنے کا تقاضہ تھا کے اسے حذف کر لیا جائے اورباقی نہ رکھا جائے لہٰذا یہ امانت میں خیانت نہیں تھی،امانت تو یہ ہے کہ لوگ ان نقول کی وجہ سے جو اس کتاب میں(امام ابو حنیفہ کے خلاف) منقول تھےعبداللہ بن امام احمدرحمہ اللہ نے جو اپنی کتاب میں سنت و صحیح عقیدہ بیان فرمایا ہے اس کے پڑھنے سے رک جاتے۔پس یہ پوری کتاب اس فصل کے بغیر شائع ہوئی جو لوگوں میں اور علماء کرام میں عام ہوئی اور یہی عبداللہ بن امام احمدرحمہ اللہ کی کتاب السنۃ سمجھی جاتی رہی۔
آخر میں اب یہ کتاب ایک علمی رسالہ یا علمی ریسرچ میں شائع ہوئی اور اس میں وہ فصل داخل کر دی گئی ہے،اوریہ مخطوطات میں موجود ہے معروف ہے۔چنانچہ اس فصل کو نئے سرے سے داخل کیا گیا یعنی اس میں واپس لوٹا دی گئی اس دعوت کے ساتھ کے امانت کا یہی تقاضہ ہے،
حالانکہ بلاشہ یہ بات صحیح نہیں،کیونکہ علماء کرام نے شرعی سیاست کو بروئے کار لاتے ہوئے،اسی کتابوں کی تالیف سے جو علماء کرام کا اصل مقصد ہوتا ہے اسے جانتے ہوئے،زمان ومکان وحال کے اختلاف کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسا کیا تھا۔ساتھ ہی جو آخر میں عقیدہ مقرر ہو چکا ہے اور اہل علم کا اس بارے میں جو کلام ہے سے علماءکرام واقف تھے۔

جب یہ طبع ہوا تو ہم فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان کے گھر پر دعوت میں شریک تھے،آپ نے سماحۃ الشیخ عبد العزیزرحمہ اللہ کو دعوت فرمائی تھی اور ان کے سامنے کتاب السنۃ کی طبع اولی جس میں علماء کرام کی طرف سے وہ فصل شامل نہیں کی گئی تھی جس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کلام ہوا تھا اور آخری طبع بھی پیش کی جو دو جلدوں میں شائع ہوئی ہے اور اس میں یہ فصل شامل کی گئی ہے،پس شیخ رحمہ اللہ نے مجھ سےشیخ فوزان کی مجلس میں فرمایا کہ:
‘‘الذی صنعہ المشایخ ھو المتعین و من السیاسۃ الشرعیۃ أن یحذف و ایرادہ لیس منا سبا۔وھذا ھو الذی علیہ نھج العلماء’’
جو کام (فصل کو حذف کرنے کا)مشائخ کرام نے کیا تھا وہی متعین بات تھی اور اسے حذف کرنا شرعی سیاست کے عین مطابق تھا اور اسے واپس سے داخل کر دینا مناسب نہیں،یہی علماء کرام کا منہج ہے۔
تو اب معاملہ اور بڑھ گیا اور ایسی تالیفات ہونے لگیں جن میں امام ابوحنیفہ
پر طعن کیا گیا ہے یہاں تک انہیں ابوجیفہ تک کہا جانے لگا اور اس جیسی دوسری باتیں،جو بلاشبہ ہمارے منہج میں سے ہے نہ ہی علماء دعوت اور علماء سلف کا یہ منہج تھا
کیونکہ ہم تو علماء کرام کا ذکر نہیں کرتے مگر خیر و بھلائی کے ساتھ خصوصاً آئمہ اربعہ کا کیونکہ ان کی ایسی شان اور مقام ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا،البتہ اگر وہ غلطی کر جائیں تو ان کی غلطی میں ان کی پیروی نہیں کرتے۔

جمعہ، 29 جولائی، 2016

امام ابو حنیفہؒ کے دشمنوں کے منہ پر زبیر علی زئی کا زور دار طمانچہ

غیر مقلدین کے مشہور محدث زبیر علی زئی مرحوم لکھتے ہیں کہ ''ہم ثقہ تابعین اور ائمہ مسلمین مثلاََ امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ۔۔۔ وغیرھم سے محبت رکھتے ہیں اور جو ان سے بغض کرے ہم ان سے بغض کرتے ہیں''(جنت کا راستہ،4)

امام ابو حنیفہؒ کے دشمن غیر مقلدین کے منہ پر زبی زئی نے یہ  زور دار طمانچہ مارا ہے جس کا جواب کسی غیر مقلد کے پاس نہیں ہے۔



کیا علامہ اقبالؒ کے نزدیک دیوبند اور قادیان کا سرچشمہ ایک ہے؟ غیر مقلدین کے ایک اعتراض کا جواب

غیرمقلدین نذیر نیازی کی ایک کتاب'' اقبال کے حضور'' سے علامہ اقبال کا ایک حوالہ پیش کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ قادیانیوں اور دیوبند کا سرچشمہ ایک ہے لیکن غیر مقلدین اپنی عادت سے مجبور ہیں کہ کبھی مکمل بات نقل نہیں کرتے۔

مکمل عبارت یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا'' قادیانی اور دیوبند ایکدوسرے کی ضد ہیں لیکن دونوں کا سر چشمہ ایک ہے اور دونوں اس تحریک کی پیداوار ہیں جس کو عرفِ عام میں وہابیت کہا جاتا ہے'' (اقبال کے حضور،صفحہ 261)
اور یہ سب کو معلوم ہے کہ دورِ برطانیہ میں غیر مقلدین کو وہابی کہا جاتا تھا اور محمد حسین بٹالوی نے انگریزوں کو درخواست لکھ کر اپنا نام وہابی سے اہلحدیث رکھوایا جس کا اعتراف خود غیر مقلدین کے علماء بھی کرتے ہیں۔
تو علامہ اقبالؒ کا یہ حوالہ غیر مقلدین کےلئے ہے نہ کہ دیوبندیوں کے لئے۔کیونکہ اسی کتاب کے اگلے صفحہ پہ واضح کہا گیا ہے کہ '' لیگ کے مخالفین کو وہابی یا اہلحدیث کہا جاتا تھا'' (اقبال کے حضور،صفحہ 262)

اگر پھر بھی غیر مقلدین نہیں مانتے تو اپنے ثناء اللہ امرتسرئ کی تو مانیں جس کا کہنا ہے کہ دیوبند اور اہلحدیث دونوں کا مخرج ایک ہئ ہے اور مسئلہ تقلید کے علاوہ تردید رسوم شرکیہ میں یہ دونوں شاخیں ایک دوسرے کے موافق ہیں۔اورغصہ میں آکر حامیان رسوم ان دونوں کو وہابی کہتے ہیں۔(فتاوی ثنائیہ، جلد 2 صفحہ 414،415)

جب غیر مقلدین علامہ اقبال کی مان رہے ہیں تو پھر اپنے ثناء اللہ امرتسرئ کی بھی تو مانیں ۔
علامہ اقبال ؒ کے بقول قادیانی اور دیوبند کا سرچشمہ وہابیت (یعنی کہ نام نہاد اہلحدیث)ہے۔
ثناء اللہ امرتسری کے نزدیک دیوبند اور اہلحدیث دونوں کا مخرج ایک ہی ہے۔

غیر مقلدو!!!!علامہ اقبالؒ کی ادھوری بات پیش کرتے ہو ، کبھی اپنے عالم کی بات بھی تو مانو؟؟؟؟؟؟