صفحات

ہفتہ، 14 مئی، 2016

کُتے اور خنزیر کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے،اکابر غیر مقلد علماء کا اعتراف اور فقہ حنفی پہ اعتراض کا جواب


غیر مقلدین اکثر احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ فقہ حنفی میں دباغت کے بعد کتے کی کھال پاک ہونے کا ذکر ہے۔ احناف کا یہ موقف احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پہ مبنی ہے۔سنن نسائی میں ہے کہ''عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم ام المومنین میمونہ رضی الله عنہا کی ایک مردار بکری کےپاس سے گزرے، تو آپ نے فرمایا: ''کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اسے دباغت دے کر فائدہ اٹھا لیتے''۔(سنن نسائی، باب: مردار جانور کی کھال کے حکم کا بیان)

اس کے ساتھ ساتھ غیر مقلدین کے اکابر اور مستند علماء شوکانی،عبدالرحمان مبارکپوری، امیر صنعانی کا موقف ہے کہ ہر مردارکی کھال( کتے اور خنزیرسمیت ) دباغت کے بعد پاک ہو جاتی ہے۔

غیر مقلدین کے عمران ایوب لاہوری نے اپنی کتاب فقہ الحدیث میں اس بارے میں 7 موقف پیش کئے ہیں جن میں سے پہلا موقف یہ بیان کیا کہ'' ہر مردار کا چمڑا(کتے کا ہو یا خنزیر کا) رنگنے کے بعد ظاہری و باطنی طورپاک ہو جاتا ہے۔جیسا کہ حدیث میں(ایما) کا لفظ اسی عموم پہ دلالت کرتا ہے۔یہ امام ابو داؤدؒ اور اہل ظاہر کا مذہب ہے۔''
اس کے بعد عمران لاہوری نے باقی 7 مذاہب بیان کئے اور آخر میں کہتے ہیں کہ''پہلا موقف راجح معلوم ہوتا ہے، علامہ شوکانی اسی کے قائل تھے، عبدالرحمان مبارکپوری کا بھی یہی موقف تھا، امیر صنعانی اور ابن حزمؒ کا موقف بھی یہی تھا کہ ہر مردار (کتے اور خنزیر ) سمیت سب کی کھال رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے۔(فقہ الحدیث،صفحہ 166/167)

اس کتاب میں علامہ البانیؒ کی تحقیق سے استفادہ کیا گیا ہے۔ تو غیر مقلدین کے اپنے عالم شوکانی،امیر صنعانی، مبارکپوری بھی کتے اور خنزیر کی کھال دباغت کے بعد پاک ہونے کے قائل تھے۔ 

اگر احناف کے اس مسئلہ کو لے کر غیر مقلدین اعتراض کرتے ہیں تو امید ہے غیر مقلدین ان علماء شوکانی، عبدالرحمان مبارکپوری،امیر صنعانی اور ابن حزمؒ پہ بھی فتوی لگائیں گے جن کے نزدیک کتے کے ساتھ ساتھ خنزیر کی کھال بھی دباغت کے بعد پاک ہو جاتی ہے۔


غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ، محسن اقبال۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں